پاکستان کی عدالت عظمٰی نے جمعرات کی صُبح وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت پر اظہار وجوہ کے نوٹس کی کارروائی شروع کردی ہے۔
اس مقدمے میں اعتزاز احسن وزیر اعظم کی وکالت کر رہے ہیں۔ عدالت کے سامنے وزیراعظم گیلانی نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اس لیے اںھوں نے سوئیٹزرلینڈ میں مقدمات دوبارہ کھلوانے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا۔
لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس فیصلے کا مقصد عدالت کی توہین نہیں تھا بلکہ ان کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ صدر کو آئین میں حاصل استثنیٰ کی شق کو اٹھارویں آئینی ترمیم میں بھی بحال رکھا گیا ہے۔
وزیراعظم گیلانی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت عظمٰی کی عمارت اور اُس طرف جانے والے راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ دارالحکومت کے اس علاقے میں ہیلی کاپٹر بھی فضائی نگرانی پر مامور ہیں۔
توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرنے والےسپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس ناصر الملک کررہے ہیں۔
وکیل صفائی اعتزاز احسن نے ایک روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ وزیر اعظم گیلانی توہین عدالت کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں کیونکہ صدر پاکستان، آصف علی زرداری کو استثنٰی حاصل ہے۔
وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی کارروائیhttp://www.voanews.com/urdu/news/pm-court-19jan12-137643288.htmlhttp://www.voanews.com/templates/Articles.rss?sectionPath=/urdu/newsVOA News: خبریںخبریں
Voice of Americahttp://media.voanews.com/designimages/VOARSSIcon.gifVOA News: خبریں4
Plurk This Post
Post to Bebo
Buzz This Post
Delicious
Digg This Post
Post to Diigo
Facebook
Post to FriendFeed
Post to Google Buzz
Send Gmail
Post to LinkedIn
Mixx This Post
MySpace
Ping This Post
Reddit
Post to Slashdot
Post to Squidoo
Stumble This Post
Post to Technorati


